حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب الله لبنان کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم نے ایک بیان میں لبنان اور خطے کی سیاسی صورتِ حال کے بارے میں حزب الله کے مؤقف کی وضاحت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت، طائف معاہدے میں ضمانت دیے گئے حقِ مزاحمت کی مشروعیت کی بنیاد پر جاری رہے گی اور اپنے خلاف اور لبنان کے خلاف ہونے والی ہر جارحیت کا مقابلہ کرے گی۔ جب تک قبضہ برقرار ہے اور جارحیت جاری ہے، مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ’’فریم ورک معاہدے‘‘ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، کیونکہ یہ آئین، طائف معاہدے، قوانین، صدرِ مملکت کے حلف اور حکومت کے پالیسی بیان کے منافی ہے۔
انہوں نے اس معاہدے کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دشمن کو رعایتیں دیتا ہے، لبنان کی قوت کے وسائل کو نظرانداز کرتا ہے اور اس کی بنیاد ملک میں فتنہ انگیزی اور تباہی پر قائم ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے زور دیا کہ حزب اللہ، ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کو اہمیت دیتی ہے، کیونکہ مزاحمت کی ثابت قدمی، ہمارے عوام اور اس کے حامیوں کے ساتھ، یہ طاقت کا واحد موجود ذریعہ ہے۔ایران_امریکہ مفاہمت کی یادداشت جاری ہوتے ہی اس معاہدے نے لبنان کے خلاف جارحیت کی شدت کم کرکے اپنی افادیت ثابت کردی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے غاصب اسرائیل کی جانب سے لبنان کے خلاف جارحیت روکنے اور لبنانی سرزمین سے اس کے انخلا کو یقینی بنانے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ ہمارے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ غاصب اسرائیلی حکومت میں کون برسرِ اقتدار آتا ہے، لیکن یہ حکومت قبضے کو جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اسے ہماری سرزمین سے نکلنا ہوگا۔
انہوں نے لبنان پر امریکی سرپرستی اور اس کے تسلط کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرپرستی بھی قبضے ہی کی طرح ہے اور دونوں خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
شیخ قاسم نے مزاحمت کے گرد عوام اور لبنان کے تمام شریف شہریوں کے نمایاں اتحاد کو سراہا اور حزب اللہ کے عہد، یعنی ’’وعدے اور وفاداری‘‘ کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم آبادکاری، بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اپنے وسائل استعمال کریں گے۔
انہوں نے قومی اتحاد کی اہمیت اور اتحاد کو فروغ دینے والے ہر اقدام کے لیے آمادگی پر زور دیا اور کہا کہ تاہم ہم دوسروں سے بھی ایسے عملی اقدامات چاہتے ہیں جو اتحاد پر ان کے یقین کی تصدیق کریں۔
انہوں نے حزب اللہ، تحریکِ امل اور مزاحمت کی حمایت کرنے والی اتحادی قوتوں کے درمیان مضبوط تعلقات کے حوالے سے سب کو یقین دلایا کہ یہ تعلقات لبنان کی خودمختاری کے اصولوں، قومی فوج کے کردار کی اہمیت اور اس کی حمایت، فتنہ انگیزی کی تمام صورتوں کی مخالفت، نیز لبنان کے تمام طبقات اور حکومت کے ساتھ خودمختاری اور آئین کے اصولوں کے دائرے میں مکالمے اور مفاہمت پر استوار ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ ہمارے خطے میں مزاحمت غاصب اسرائیل کے قبضے کے نتیجے میں وجود میں آئی، اسرائیل کو دنیا کے جابر حکمرانوں، بالخصوص امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ حزب الله لبنان نے 1982 میں اپنے قیام کے بعد سے لبنان اور خطے کے تمام شریف عوام کے ساتھ مل کر قبضے کا مقابلہ کرنے اور سرزمین و عوام کو آزاد کروانے کے لیے اس مزاحمت کو جاری رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غاصب صیہونی دشمن نے جھوٹے بہانوں کی آڑ میں جتنی بھی جنگیں شروع کی ہیں، وہ سب توسیع پسندانہ جنگیں ہیں جن کا مقصد ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا قیام ہے۔
انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کی جارحانہ فطرت اور کسی بھی عہد کی پابندی نہ کرنے کی روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور مغرب کی حمایت کے بغیر غاصب اسرائیل اپنے قبضے کو مستحکم نہیں کرسکتا تھا، چہ جائیکہ اسے مزید وسعت دیتا۔ اس حمایت کے نتیجے میں غزہ، مغربی کنارے اور پورے فلسطین میں ثابت قدم اور مزاحمت کرنے والے فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے جرائم انجام دیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود، ان عوام کی قبضے اور اس کی پشت پناہی کرنے والی استکباری قوت کے خلاف ثابت قدمی، خدا کی مشیت سے، قدس اور فلسطین کو اس کے عوام کے لیے محفوظ رکھے گی۔ مزاحمت کی قیمت بہت زیادہ ہے، لیکن تسلیم ہوجانے اور رعایتیں دینے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔
حزب الله لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اگر مزاحمت نہ ہوتی، ہمارے عوام کی قربانیاں، صالح شہداء کی قربانی، جن میں سرفہرست امت کے شہداء کے سردار سید حسن نصرالله رحمۃ الله علیہ اور الہاشمی ہیں، نیز زخمیوں، قیدیوں اور گھروں و کھیتوں کی تباہی اور بے گھری کا بوجھ برداشت کرنا شامل نہ ہوتا اور اگر یہ عظیم ثابت قدمی نہ ہوتی تو اسرائیلی دشمن آبادکاری شروع کردیتا اور سیاسی، انتظامی اور علاقائی اعتبار سے پورے لبنان پر اپنا تسلط قائم کرلیتا؛ وہ اس مقام پر رکنے والا نہیں تھا جہاں وہ آج موجود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہماری ثابت قدمی اور مزاحمت کا تسلسل ہی ہماری پوری سرزمین کو آزاد کروانے کا واحد راستہ ہے، خواہ اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ دشمن کی صورتِ حال اس کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی، داخلی انتشار اور سیاسی، اقتصادی و سماجی بحرانوں سے عبارت ہے، جن کے نتائج بتدریج سامنے آئیں گے اور اس کی آئندہ کارکردگی پر اثرانداز ہوں گے۔
انہوں نے صیہونی حکومت کے انتخابات کے نتائج کو ’’شکست کا مظہر‘‘ قرار دیا۔
شیخ قاسم نے امریکہ کے بارے میں بھی کہا کہ متکبر امریکہ کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔
انہوں نے ایرانی عوام کی ثابت قدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور اس کی عظیم قوم ثابت قدم رہے۔ ایران نے ایسے شہداء پیش کیے جن میں سرفہرست امت کے رہبر شہید امام خامنہ ای، ان کے اہلِ خانہ اور کمانڈروں و عوام میں سے دیگر شہداء شامل ہیں؛ تاہم ایران نے اسلامی نظام کا تختہ الٹنے اور ملک کو تقسیم کرنے کے امریکی اور اسرائیلی مقاصد کو ناکام بنا دیا۔
شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ ایران کو اپنے تسلط میں نہیں لا سکتا، جبکہ خود امریکہ سیاسی انتشار اور شدید اقتصادی بحران سے دوچار ہے، اپنا عالمی مقام کھو چکا ہے اور خطے سے نکلنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ سب ایران کی عظیم قوم اور اس کی حکیم و بہادر قیادت، آیت الله سید مجتبیٰ خامنہ ای کی ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔
حزب الله لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ لبنان اور خطے میں جاری پیش رفت کے پیشِ نظر ہم درج ذیل امور پر زور دیتے ہیں:
- مزاحمت، طائف معاہدے میں ضمانت دیے گئے جائز حقِ مزاحمت کی بنیاد پر جاری رہے گی۔ وہ اپنے خلاف اور لبنان کے خلاف ہونے والی ہر جارحیت کا مقابلہ کرے گی۔ جب تک قبضہ اور جارحیت جاری ہے، مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔ دشمن کو 27 نومبر 2024 کے معاہدے اور قرارداد 1701 کے مطابق پیچھے ہٹنا ہوگا اور لبنانی فوج کو دریائے لیتانی کے جنوب میں تعینات ہونا چاہیے۔
- فریم ورک معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، کیونکہ یہ آئین، طائف معاہدے، قوانین، صدرِ مملکت کے حلف اور حکومتی بیان کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ لہٰذا یہ باطل اور بے اعتبار ہے۔ یہ معاہدہ دشمن کو ایسی چیزیں دیتا ہے جن کا وہ مستحق نہیں، لبنان کی قوت کے وسائل سے دستبردار ہوتا ہے اور اس کی بنیاد ملک میں فتنہ انگیزی اور تباہی پر ہے۔
- ہم ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کو اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ مزاحمت کی ثابت قدمی، ہمارے عوام اور اس کے حامیوں کے ساتھ، طاقت کا واحد موجود ذریعہ ہے۔ مفاہمت کی یادداشت جاری ہوتے ہی اس معاہدے نے اپنی افادیت ثابت کردی اور لبنان کے خلاف جارحیت میں کمی آئی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسرائیل کی جارحیت روکنے اور اسے لبنانی سرزمین سے نکلنے کا پابند بنانے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ یہ ایک عظیم قربانی ہے، جس پر ہم دنیا کے آزاد لوگوں کے لیے سرچشمۂ الہام اس علامت کے شکر گزار ہیں۔
- ہمارے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ غاصب اسرائیلی حکومت پر کون حکمرانی کرتا ہے۔ تاہم، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قبضہ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور انہیں ہماری سرزمین سے نکلنا ہوگا۔
- ملک کے بعض امور پر امریکی سرپرستی اور تسلط ختم ہونا چاہیے۔ سرپرستی قبضے کے مترادف ہے اور دونوں خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
- ہم مزاحمت کے گرد اپنے ملک کے عوام اور تمام شریف شہریوں کے نمایاں اتحاد کو سراہتے ہیں۔ ہم ایک بار پھر اپنے عہد، یعنی ’’وعدہ اور وفاداری‘‘، کی تجدید کرتے ہیں کہ آبادکاری، مرمت اور تعمیرِ نو کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
- ہم قومی اتحاد پر زور دیتے ہیں اور اختلافات ختم کرنے اور اتحاد کے فروغ کے لیے ہر اقدام کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم، ہمیں دوسروں کی جانب سے بھی ایسے ٹھوس اقدامات درکار ہیں جو عملی طور پر اتحاد کے اس عہد کو ظاہر کریں۔
- ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ حزب اللہ، تحریکِ امل اور مزاحمت کی حمایت کرنے والی اتحادی قوتوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔ یہ تعلقات لبنان کی خودمختاری کے اصولوں، قومی فوج کے کردار کی اہمیت اور اس کی حمایت، ہر قسم کی فتنہ انگیزی کی مخالفت اور لبنان کے تمام عوامی طبقات اور حکومت کے ساتھ خودمختاری اور آئین کے اصولوں کے دائرے میں مکالمے اور مفاہمت پر مبنی ہیں۔










آپ کا تبصرہ